تازہ ترین خبریں " ماہنامہ حرمین کا تازہ ترین شمارہ آ گیا ہے خطبہ جمعہ ڈاون لوڈ کریں                                                                                       
 
جامعہ علوم الاثریہ
علم اور جدوجہد کا سفر
یوں لگتاہے جیسے کل ہی کی بات ہو کہ مجاہد ملت حضرت مولانا حافظ عبدالغفور  نے جہلم سے قرآن وحدیث کے علم ہی شمع جلائی ۔اور مقامی انجمن اہل حدیث کے تعاون سے مدرسہ دارالحدیث قائم کیا ۔چھوٹی سی مسجد ،چند صفوں پر تھوڑے سے طلبہ اور خود کو معلم گویا: ابتدا ہوتی ہے تیرے نام سے “ کسے معلوم تھا کہ اس امر درویش نے آج جو ننھا سا پودا لگایا ہے وہ چند برسوں کے اندر اندر ایک تناور اور شجر سایہ دار بن جائے گا۔عرب وعجم میں حضرت حافظ صاحب کو جو علمی مقام حاصل تھا اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان کی دعوت پر ستمبر1979ءاور جون 1986ءمیں امام کعبہ فضیلة الشیخ محمد بن عبداللہ السبیل دو مرتبہ جہلم تشریف لائے ۔اور انہوں نے جامعہ علوم اثریہ کا سنگ بنیاد رکھا۔اور پھر چند ماہ کے اندر وہاں تین منزلہ عالی شان عمارت کھڑی ہو گئی۔اور تشنگان علم اپنی پیاس بجھانے دورونزدیک سے یہاں پہنچنے لگے ۔حضرت حافظ صاحب کا مشن اب بھی پورا نہ ہوا۔وہ اس قوم کو ایسی عظیم مائیں دینا چاہتے تھے۔جو گر ہستی کے ساتھ ساتھ قرآن وحدیث کے علم سے بھی واقف ہوں ۔تاکہ ان کی گود میں پلنے والے بچے تربیت کے بہترین اصولوں سے گزر سکیں اوروہ صحیح اور سچے مسلمان ثابت ہوں ۔چنانچہ اپنی اس خواہش کو پورا کرنے کیلئے اپریل 1983ءمیں شارجہ کے حکمران صاحب السمو الشیخ ڈاکٹر سلطان بن محمد القاسمی حفظہ اللہ کو جہلم مدعو کیا۔اور ان کو یہاں ایک بہت بڑے اسلامی مرکز کی ضرورت کا احساس دلایا۔چنانچہ انہوں نے یہاں جس مرکز کا سنگ بنیاد رکھا،وہ آج تک ایک بہت ادارے کی شکل میں جامعہ علوم اثریہ کے نام پر قائم ہے ۔جبکہ جامعہ کی پہلی باپردہ سہ منزلہ عمارت میں لڑکیوںکی درسگاہ جامعہ اثریہ للبنات کام کر رہی ہے

 

 

 

   
   
   
   


جامعہ کی عمارت
یہ عظیم الشان تین منزلہ عمارت جہلم شہر کے وسط میں دو ایکڑ رقبے پر صناعی ،خوبصورتی اور کمال فن کا بہترین نمونہ ہے ۔جس میں ایک انتہائی خوبصورت مسجد ،کلاس رومز،ہاسٹل ،دفاتر ،ڈائننگ ہال ،گیسٹ رومز،سٹور ،گارڈن کے علاوہ ایک عالی شان کشادہ اور جدید لائبریری ،اساتذہ کے لئے فیملی رہائش گاہیں اور ماڈرن ڈسپنسری شامل ہے ۔
اس قابل دید عمارت میں نہ صرف جہلم اور گردونواح بلکہ ملک کے گوشے گوشے آزاد کشمیر وقبائلی علاقے کے علاوہ غیر ملکی طلبہ بھی دستار فضیلت سے آراستہ ہو چکے ہیں۔جبکہ سینکڑوں غریب ،نادار ،مستحق اور یتیم طلبہ زیر تعلیم ہیں

دینی ودنیوی کا حسین امتزاج
طلبہ کو دین کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم سے بھی آراستہ کیا جاتا ہے ۔تاکہ وہ یہاں سے فارغ ہونے کے بعد معاشرے کے فعال رکن ثابت ہوں ۔جامعہ کے طلبہ کو یہ موقع فراہم کیا جاتا ہے کہ وہ میٹرک تا ایم ۔اے کی تیاری بھی کریں ۔ان کی رہنمائی کے لئے باقاعدہ ٹیچر مہیا کیے جاتے ہیں ۔
قسم الدراسات الاسلامیة والعربیة ( درسِ نظامی
اس شعبے میں پرائمری پاس طالب علم کو داخلہ دیا جاتا ہے مگر ترجیح مڈل،میٹرک یا حافظ قرآن کو دی جاتی ہے ۔اس شعبہ میں طلبہ کو مکمل اسلامی علوم وفنون،تفسیر ،اصول تفسیر ،حدیث ،فقہ،اصول فقہ ،بلاغہ،ادب عربی،تاریخ وگرائمر (صرف ونحو) کی تعلیم دی جاتی ہے ۔اس شعبہ سے فارغ ہونے والے طلبہ ”عالم دین“بن کر نکلتے ہیں ۔جامعہ میں وفاق المدارس السلفیہ کا نصاب پڑھایا جاتا ہے ۔اور وفاق المدارس کے الشہادة العالمیة کو حکومت پاکستان نے ایم اے عربی اور ایم اے اسلامیات کے برابر تسلیم کیا ہے ۔اس سلسلے میں حکومت کی طرف سے باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری ہو چکا ہے۔
اس شعبہ میں درج ذیل مراحل میں تعلیم دی جاتی ہے ۔
پہلا مرحلہ: الثانویة العامة مدت کورس دو سال مساوی میٹرک
دوسرا مرحلہ: الثانویة الخاصة مدت کورس دو سال مساوی ایف ۔اے
تیسرا مرحلہ: الشہادة العالمیة مدت کورس دو سال مساوی بی ۔اے
چوتھا مرحلہ: الشہادة العالمیة مدت کورس دو سال مساوی ایم ۔اے عربی واسلامیات
قسم تحفیظ القرآن
اس شعبہ میں پرائمری پاس طلبہ کو داخلہ دیا جاتا ہے ۔مگر بعض صورتوں میں اس سے کم تعلیم والے طالب علم کو بھی داخل کر لیا جاتا ہے ۔اس وقت جامعہ اور شہر کی مختلف مساجد مین بھی بچے حفظ کے ساتھ ساتھ مسنون دعائیں اور ترجمے کے ساتھ نمازیں پڑھنے کی عملی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ان بچوں کو روزمرہ کام آنے والی دعائیں خاص طور پر یاد کرائی جاتی ہیں ۔ان مساجد میں زیر تعلیم طلبہ کو یہی وہی سہولتیں حاصل ہیںجو جامعہ کے طلبہ کو ملتی ہیں ۔
شعبہ دعوت و اصلاح
جامعہ میں سالانہ جلسہ تقریب صحیح بخاری /تقسیم اسناد کے علاوہ بڑے دینی اجتماعات اور اصلاحی پروگرام منعقد کرانے کے ساتھ ساتھ مضافات میں تبلیغی ودعوتی دروس و جلسے منعقد کئے جاتے ہیں جن میں معروف مبلغین کے علاوہ علمی اور تربیتی شخصیات کو دعوت دی جاتی ہے ۔
مفت تعلیم ‘ کھانا رہائش وعلاج معالجہ:۔
جامعہ میں زیر تعلیم طلبہ کو تینوں وقت کا کھانا مہیا کیا جاتا ہے ۔جبکہ تمام طلبہ کو علاج معالجہ وغیرہ مفت فراہم کیا جاتا ہے ۔جامعہ میں زیر تعلیم طلبہ کو ایک گھر کا سا ماحول دیا جاتا ہے جہاں وہ ایک خاندان کے طور پر رہتے ہیں اور معاش اور دیگر مشغولیات سے ببے فکر ہو کر اپنی تعلیم پر توجہ دیتے ہیں ۔
سعودی یونیورسٹیوں میں جامعہ کی ڈگری کی اہمیت
جامعہ علوم اثریہ کے نصاب تعلیم کو مدینہ یونیورسٹی نے منظور کرتے ہﺅے مراسلہ نمبر 4389بتاریخ 15-09-1405ھ ۔اس کی سند کے ساتھ الحاق (معادلہ) کیا ہے جس کی بناءپر جامعہ کے فارغ التحصیل طلبہ کو مدینہ یونیورسٹی میں بآسانی داخلہ مل جاتا ہے جب کہ یونیورسٹی ،طلبہ کو روزمرہ کی ضروریات پورا کرنے کے لئے سکالر شپ (وظیفہ) بھی دیتی ہے ۔
عرب دنیا میں بالعموم اور سعودی عرب میں بالخصوص جامعہ علوم اثریہ کی شہرت کا یہ عالم ہے کہ یہاں کے فارغ التحصیل طلبہ کو تعلیم کے لئے ترجیح دی جاتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ اسلامی یونیورسٹی مدینہ منورہ ،ام القریٰ یونیورسٹی مکہ معظمہ اور امام محمد بن سعود اسلامک یونیورسٹی الریاض میں جامعہ کے کئی طلبہ تاحال زیر تعلیم ہیں ۔جبکہ یہاں کے ہزاروں فیض یافتہ طلبہ اندرون وبیرون ملک دینی وتبلیغی سرگرمیوں میں مصروف ہیں ۔
غیر ملکی طلبہ کو جامعہ میں داخلہ کا اشتیاق

اللہ کے فضل سے بیرونی دنیا میں جامعہ علوم اثریہ کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ غیر ملکی طلبہ یہاں داخلے کو اپنے لئے بہت بڑا اعزاز اور امتیاز سمجھتے ہیں ۔اور متعدد ممالک کے طلبہ داخلہ کے لئے آرزو مند ہیں اور وہ وقتاً فوقتاً درخواستیں جامعہ کو ارسال کرتے رہتے ہیں مگر موجودہ حالات کی بناءپر جامعہ ان کو داخلہ نہ دینے پر مجبور ہے ۔اب تک جن ممالک کے طلبہ یہاں سے علم کی پیاس بجھا چکے ہیں ۔ان میں افغانستان ،بنگلہ دیش ،متحدہ عرب امارات ،سعودی عرب،عراق ،مصر،سوڈان ،مراکش ،الجزائر،تیونس،انڈونیشیا،تھائی لینڈ،سنگاپور،چین،کیمرون اور برطانیہ شامل ہیں ۔البتہ جامعہ میں بیرونی طلبہ کو حکومت پاکستان کی طرف سے باقاعدہ این اور سی رکھنے والے طلبہ کو ہی داخلہ دیا جاتا ہے۔
مرکزی لائبریری
جامعہ میں طلبہ کی علمی تشنگی کو بجھانے کے لئے ایک مرکزی لائبریری بھی قائم کی گئی ہے جس میں اسلامی علوم وفنون کے علاوہ کے علاوہ معاصر علوم وفنون کے بارے میں ہزاروں کتب موجود ہیں ۔لائبریری میں قدیم اور نادر مخطوطات بھی موجود ہیں جو کہ اہل علم وتحقیق کو اپنی طرف راغب کرتے ہیں ۔اس وقت لائبریری میں 313قدیم اصلی مخطوطات اور سینکڑوں نادر مخطوطات کی فوٹوز موجود ہیںجنہیں قاہرہ‘اسکندریہ‘دمشق‘ صنعاء‘ اور استنبول کی علمی لائبریریوں سے فوٹو کرایا گیا ہے ۔مخطوطات کے علاوہ تفسیر ‘حدیث‘فقہ ‘لغات‘ فنون اور علوم کے بارے میں تمام بنیادی کتب موجود ہ

Home English Arabic Urdu Recommend Email News Audio Video Pictures Contact